Pages

Sunday, February 3, 2013

اب شاد ہو تم؟

تمہاری ذات  سے وابستہ
سارے موسموں کو
آخری ہجرت پہ راضی کر لیا ہے
محبت کو تقدس سے جدا کر کے
یہ دعویٰ صرف رسمی کر لیا ہے
جاؤ ہر اک یاد سے آزاد ہو تم
جب کبھی فرصت ملے
تو صرف اک پیغام لکھ دینا
کہ ہاں، اب شاد ہو تم
شاد ہو تم؟ 

سالکؔ صدیقی


ایک بہت پیارے دوست کے لیے جو شائید یہ کبھی نہیں پڑھے گا ۔ ۔ ۔ ۔ 
دلی دعا ہے کہ جہاں رہے بس خوش اور شاد و آباد رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین  

جملہ حقوق محفوظ ہیں


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔