کبھی تو کوئی
لکھے گا
اک داستانِ
عبرت
شقاوتوں کے
ہمیشہ رِستے
سلگتے زخموں
سےقطرہ قطرہ ٹپکتے
تازہ لہو میں نوکِ قلم ڈبو کے
کبھی شکستِ
جنوں، کبھی وحشتوں کے قصے
اذیتوں کی
چِتا میں جلتے لطیف جذبات کی کہانی
مری مقفل
خموشیوں کے شکستہ اوراق پر لکھے
درد کے فسانے
مگر یہ توفیق
کس کو ہو گی
کہ میرے لب تو
کبھی کے
خود میرے ہی مقدر نےسی دیئے ہیں
یہ پھر بھی طے
ہےکہ اک نہ اک دن
کبھی تو
شائید، کوئی لکھے گا
اذیتوں کے جلے
کفن پر مری کہانی!
سالکؔ صدیقی
جملہ حقوق محفوظ ہیں
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔