پھیلتی کائنات کے مالک
بجھتی امیدوں کو
اپنے نور سے روشن رکھنے والے
سینوں کو زرخیز بنانے والے
فکر تازہ کی پاکیزہ فصل اگانے والے
کالے اور کٹھور پہاڑوں کے دامن میں
رنگ برنگے پھول اگانا سمجھ میں آیا
پتھر میں بند کیڑے کو
اس کا رزق مقسوم کھلانا سمجھ میں آیا
بیچ سمندر نادیدہ حد تقسیم بھی سمجھ میں آئی
ناموجود سے ہر موجود بنانے والے
تیرے ہر اک کام میں حکمت
لیکن تیرے کُن کی حد، کیا ختم ہوئی؟
کہ وہ سب پنچھی، جن کو اک آزاد افق
بے سمت فضا کی خواہش تھی
اب پورے پروں کے ہوتے ہوئے بھی
اڑنے سے قاصر بیٹھے ہیں
تیرے کُن کی آس پہ
صبح و شام فلک تکتے رہتے ہیں
سالکؔ صدیقی
جملہ حقوق محفوظ ہیں
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔