Pages

Tuesday, January 29, 2013

پھیلتی کائنات کے مالک



پھیلتی کائنات کے مالک

بجھتی امیدوں کو

اپنے نور سے روشن رکھنے والے

سینوں کو زرخیز بنانے والے

فکر تازہ کی پاکیزہ فصل اگانے والے

کالے اور کٹھور پہاڑوں کے دامن میں

رنگ برنگے پھول اگانا سمجھ میں آیا

پتھر میں بند کیڑے کو

اس کا رزق مقسوم کھلانا سمجھ میں آیا

بیچ سمندر نادیدہ حد تقسیم بھی سمجھ میں آئی

ناموجود سے ہر موجود بنانے والے

تیرے ہر اک کام میں حکمت

لیکن تیرے کُن کی حد، کیا ختم ہوئی؟

کہ وہ سب پنچھی، جن کو اک آزاد افق

بے سمت فضا کی خواہش تھی

اب پورے پروں کے ہوتے ہوئے بھی

اڑنے سے قاصر بیٹھے ہیں

تیرے کُن کی آس پہ

صبح و شام فلک تکتے رہتے ہیں



سالکؔ صدیقی
جملہ حقوق محفوظ ہیں

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔