جب بھی دیکھو
سوچ میں ڈوبے رہتے
ہو
کمرے میں بند
کتابوں کے انبار
میں کھوئے رہتے ہو
کیا سوچتے ہو
کیا لکھتے ہو
اب ایسا کیا کہ
جب بھی ملو
بس سنجیدہ ہی دِکھتے
ہو
نہ بولتے ہو، نہ
ہنستے ہو
کچھ روگ ہے کیا؟
کچھ کھوج ہے کیا؟
کچھ بولو، یارا،
بات کرو
کچھ وقت نکالو
آبادی سے دور کہیں
ویرانوں میں
کسی جنگل میں
سوکھے دریا کے
پار چلیں
موٹر بائیک پر
دور ہرن مینار چلیں
یا جہاں کہیں بھی
تم چاہو
چلو اٹھو میرے
یار، چلیں
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔