وقت
رکتا نہیں مگر، سالک
چاہو نہ چاہو، کاٹنے کے لیے
یاد کی فصل چھوڑ جاتا ہے
وقت رکتا نہیں مگر، سالک
مہرباں ہو تو اجنبیت کو
میٹھے رشتوں سے جوڑ جاتا ہے
وقت رکتا نہیں مگر، سالک
زندگی کے سفر کا رُخ، چپ چاپ
اک نئی سمت موڑ جاتا ہے
سالکؔ صدیقی
جملہ حقوق محفوظ ہیں
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔