Pages

Monday, January 28, 2013

یادوں کے بے نام نوادر

یاد کے بند عجائب گھر سے
کتنے ہی بے نام نوادر
چلتے پھرتے پیکر بن کر
نیندوں سے محروم
اندھیری راتوں کا دربار سجاتے
تنہائی کا ساتھ نبھاتے
بھیگی پلکوں کے لرزیدہ
جگنوؤں سے باتیں کرتے
ڈھلتی عمر کے چشمے سے جاری
لمحوں کا پانی بھرتے
اپنی کائنات میں گم سم
وقت گزیدہ بنجارے کا
دل بہلانے آجاتے ہیں
پَو پھٹنے تک
سینے میں کچھ تازہ زخم لگا جاتے ہیں
یادوں کے بے نام نوادر
اکثر راتوں میں کیوں زندہ ہو جاتے ہیں؟
سوچوں کی مجبور زمیں میں
بے چینی کے چبھتے پتھر بو جاتے ہیں

سالک صدیقی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔