یاد کے بند عجائب
گھر سے
کتنے ہی بے نام
نوادر
چلتے پھرتے پیکر
بن کر
نیندوں سے محروم
اندھیری راتوں
کا دربار سجاتے
تنہائی کا ساتھ
نبھاتے
بھیگی پلکوں کے
لرزیدہ
جگنوؤں سے باتیں
کرتے
ڈھلتی عمر کے چشمے
سے جاری
لمحوں کا پانی
بھرتے
اپنی کائنات میں
گم سم
وقت گزیدہ بنجارے
کا
دل بہلانے آجاتے
ہیں
پَو پھٹنے تک
سینے میں کچھ تازہ
زخم لگا جاتے ہیں
یادوں کے بے نام
نوادر
اکثر راتوں میں
کیوں زندہ ہو جاتے ہیں؟
سوچوں کی مجبور
زمیں میں
بے چینی کے چبھتے
پتھر بو جاتے ہیں
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔