عارضی فائدوں میں خرچ ہوئے
فالتو مشغلوں میں خرچ ہوئے
عمر بھر کوئی جوہری نہ ملا
ہر جگہ کوڑیوں میں خرچ ہوئے
اور ہی منزلوں کو جانا تھا
اور ہی راستوں میں خرچ ہوئے
قدر داں دشمنوں کو ٹھکرا کر
خوش بیاں دوستوں میں خرچ ہوئے
وسعت فکر بے ثمر ہی رہی
منحنی دائروں میں خرچ ہوئے
کچھ توجہ نہ دی مقاصد پر
بے سبب الجھنوں میں خرچ ہوئے
آفتابوں نے آنکھیں چندھیا دیں
ڈر گئے، جگنوؤں میں خرچ ہوئے
بات مانی نہیں فقیروں کی
خوامخواہ مستیوں میں خرچ ہوئے
زندگی کی بساط پر سالک
وقت کی سازشوں میں خرچ ہوئے
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔