Pages

Sunday, January 27, 2013

غزل

 
عارضی فائدوں میں خرچ ہوئے
فالتو مشغلوں میں خرچ ہوئے

عمر بھر کوئی جوہری نہ ملا
ہر جگہ کوڑیوں میں خرچ ہوئے

اور ہی منزلوں کو جانا تھا
اور ہی راستوں میں خرچ ہوئے

قدر داں دشمنوں کو ٹھکرا کر
خوش بیاں دوستوں میں خرچ ہوئے

وسعت فکر بے ثمر ہی رہی
منحنی دائروں میں خرچ ہوئے

کچھ توجہ نہ دی مقاصد پر
بے سبب الجھنوں میں خرچ ہوئے

آفتابوں نے آنکھیں چندھیا دیں
ڈر گئے، جگنوؤں میں خرچ ہوئے

بات مانی نہیں فقیروں کی
خوامخواہ مستیوں میں خرچ ہوئے

زندگی کی بساط پر سالک
وقت کی سازشوں میں خرچ ہوئے

سالک صدیقی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔