گرم لہو کے پیاسے پتھر ناچیں گے
اور سرِ شمشیر کئی سر ناچیں گے
سب کچھ دیکھ کے رو نہ پائیں گی آنکھیں
جسموں اور چہروں پر خنجر ناچیں گے
شملے، وردیاں اور عبائیں تڑپیں گی
کِبر زدہ سینوں پر بندر ناچیں گے
اپنے ہی سر تھام کے اپنے ہاتھوں میں
چوراہوں کے بیچ ستمگر ناچیں گے
قبروں پر لکھا جائے گا لفظ ‘ عذاب ‘
اندر آگ میں جلتے پیکر ناچیں گے
دل دہلا دینے والا ہو گا وہ منظر
جلادوں کے ہاتھ جو کٹ کر ناچیں گے
کفارے کی مہلت جب بھی ختم ہوئی
حاکم، رعیہ، مست قلندر ناچیں گے
سالک تو نے کھول دیئے ہیں راز کئی
بستی کے درویش اب تھر تھر ناچیں گے
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔