Pages

Monday, January 28, 2013

غزل



تو کھُل کر بات کرتا کیوں نہیں ہے
وہ کشفِ ذات کرتا کیوں نہیں ہے

برس جانے کی خواہش بھی ہے لیکن
کبھی برسات کرتا کیوں نہیں ہے

اگر ہے شوق سب کچھ بانٹنے کا
مجھے خیرات کرتا کیوں نہیں ہے

جلاتا ہے، بجھا دیتا ہےمجھ کو
سپردِ رات کرتا کیوں نہیں ہے

اسی کی چال پر ہے ختم بازی
نہ جانے مات کرتا کیوں نہیں ہے

سالک صدیقی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔