Pages

Monday, January 28, 2013

جاتے سال کی آخری اور نئے سال کی پہلی نظم

 اک لمحہ
جو سالِ رواں کو
سالِ گذشتہ کر جاتا ہے
میٹھی کڑوی یادوں سے
ہر شخص کا دامن بھر جاتا ہے
یہ سب لکھتے لکھتے
آخر گذر گیا ہے
عمرِ رواں کی دیواروں سے
ایک کیلنڈر اتر گیا ہے
یارو تازہ سال مبارک

سالک صدیقی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔