جبر کی ریاست کے
نیم جاں مکینوں میں
ظلم سہتے رہنے کی
اک پرانی عادت ہے
ضبط محض مجبوری
اور فکر آزادی
صرف شغل فرصت ہے
منجمد امیدوں پر
تہہ بہ تہہ جمی ہوئی
بے بسی کی برف کو
کچھ تپش کی حاجت ہے
جبر کی ریاست میں
حکمرانوں کو آخر
ظلم اور جبر کا
سب حساب دینا ہے
ایک دن بغاوت کی
بے ضرر سی چنگاری
شعلہء جنوں بن کر
اک الاؤ کی صورت
ظالموں کے محلوں کو
جابروں کے قلعوں کو
خاک کر کے چھوڑے گی
جبر کی ریاست کو
ظلم کے اندھیروں سے
پاک کر
کے چھوڑے گی
سالکؔ صدیقی
جملہ حقوق محفوظ ہیں
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔