Pages

Tuesday, January 29, 2013

جبر کی ریاست میں

جبر کی ریاست کے
نیم جاں مکینوں میں
ظلم سہتے رہنے کی
اک پرانی عادت ہے
ضبط محض مجبوری
اور فکر آزادی
صرف شغل فرصت ہے
منجمد امیدوں پر
تہہ بہ تہہ جمی ہوئی
بے بسی کی برف کو
کچھ تپش کی حاجت ہے
جبر کی ریاست میں
حکمرانوں کو آخر
ظلم اور جبر کا
سب حساب دینا ہے
ایک دن بغاوت کی
بے ضرر سی چنگاری
شعلہء جنوں بن کر
اک الاؤ کی صورت
ظالموں کے محلوں کو
جابروں کے قلعوں کو
خاک کر کے چھوڑے گی
جبر کی ریاست کو
ظلم کے اندھیروں سے
پاک کر کے چھوڑے گی

سالکؔ صدیقی
 




جملہ حقوق محفوظ ہیں

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔