فصیل وقت پہ بیٹھا،
فقیر نیم عریاں
خموش دیکھتا رہتا
ہے گردش دوراں
بساطِ حرص و ہوَس
پر تمام مہروں کی
ہر ایک چال، ہر
اک داؤ پیچ، ہر بازی
مداریوں کے تماشوں
میں ڈگڈگی کا کمال
اچھلتے کودتے خوش
فہم بندروں کی دھمال
ہجوم شہر کی رسوائیوں
کے سب منظر
نظر نہ آتے ہوئے
دھاگے، پتلیاں رنگیں
فصیل وقت پہ بیٹھا،
فقیر نیم عریاں
ابھی مراقبے میں
انتظار کرتا ہے
جب آسمان سے خونی
سحاب اترے گا
لہو کی بارشوں
میں انقلاب اترے گا
ہر ایک چوک میں
مجذوب ناچتے ہوں گے
یزیدیوں کے تنوں
سے جدا، ہزار ہا سر
تڑپتے ہوں گے مگر
خوب ناچتے ہوں گے
فصیل وقت پہ بیٹھا،
فقیر نیم عریاں
لٹیں جھٹکتا ہوا
وجد میں جب آئے گا
غریب شہر بھی غفلت
سے جاگ جائے گا
مگر وہ وقت بعید
از گمان لگتا ہے
ابھی تو سرخ نہیں
آسمان لگتا ہے
ابھی تو اور مداری
شہر نشیں ہوں گے
تماشاہائے فریب
و دغا کا موسم ہے
ابھی تو اندھی
وفاداریوں کا غلبہ ہے
فصیل وقت پہ بیٹھا،
فقیر نیم عریاں
مزاج شہر سے نالاں،
خفا ہے، برہم ہے
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔