Pages

Sunday, January 27, 2013

جنوری، کہاں ہے توُ؟



جنوری، کہاں ہے تُو

اب کے پھر دسمبر نے

دشتِ وقت سے چُن کر

بے سکون یادوں سے

مجھ کو بوجھل کر دیا

سوچ کی اذیت میں

آ گیا تھا ٹھہراؤ

پھر مسلسل کر دیا

جنوری، پلٹ بھی آ

دامنِ کشادہ میں

اب کے خوب بھر لانا

جین، امن اور بھلا

سُکھ، محبتیں، وفا

جنوری، جہاں بھر کو

تیرا انتظار ہے



سالک صدیقی








0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔