Pages

Monday, January 28, 2013

ایک لمحہ


وقت کی کوکھ میں پلا لمحہ
آج کی رات ٹھیک بارہ بجے
پوری تاریخ ہی بدل دے گا
سال بارہ سمیٹ کر چپ چاپ
سال تیرہ کے ساتھ چل دے گا
ایک لمحہ کہ جو ہمارے لئے
قدر و قیمت ذرا نہ نہیں رکھتا
اور اپنے وجود میں سالک
اک زمانہ چھپائے رہتا ہے
اپنی ہستی مٹائے رہتا ہے

سالک صدیقی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔