وقت کی کوکھ میں
پلا لمحہ
آج کی رات ٹھیک
بارہ بجے
پوری تاریخ ہی
بدل دے گا
سال بارہ سمیٹ
کر چپ چاپ
سال تیرہ کے ساتھ
چل دے گا
ایک لمحہ کہ جو
ہمارے لئے
قدر و قیمت ذرا
نہ نہیں رکھتا
اور اپنے وجود
میں سالک
اک زمانہ چھپائے
رہتا ہے
اپنی ہستی مٹائے
رہتا ہے
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔