اور حصوں میں بٹ
نہیں سکتا
میں کسی میں سمٹ
نہیں سکتا
سمت واضح نہیں
ابھی میری
پھر بھی واپس پلٹ
نہیں سکتا
کس کا سایہ ہے
ساتھ ساتھ مرے
مجھ سے آ کر لپٹ
نہیں سکتا؟
رُو سیاہ، بے عمل
سہی لیکن
اپنے خالق سے کٹ
نہیں سکتا
ایک طوفانِ باد
و باراں ہوں
بنا برسے تو چھٹ
نہیں سکتا
کوئی آتش فشاں
ہے سینے میں
وقت سے پہلے پھٹ
نہیں سکتا
حالتِ جنگ میں
ہوں برسوں سے
اس سے زیادہ تو
ڈٹ نہیں سکتا
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔