چھوٹے چھوٹے میل رنگے
جابجا تڑکے ہوئے گندے کپوں میں
چائے پینے کا بھی اپنا ہی مزا ہے
دیر تک پکتے ہوئے قہوے کی خوشبو بھی نشہ ہے
اور ڈُنگیا سے
مسلسل
پھینٹتے رہنے کی دل خوش کن صدا
توبہ! بلا ہے
اس پہ شوریدہ فضا میں
سگریٹوں کا ہر طرف پھیلا دھواں
ٹوٹی ہوئی میزوں کی درزوں میں
پناہیں ڈھونڈتی سرگوشیاں
راز و نیازِ زندگی
حالات کی ماری سسکتی مفلسی
فردا سے بے پرواہ دن بھر کی تھکن
محرومیاں، ایماں شکن
مجبوریوں کی گلتی سڑتی میتوں پر
ٹوٹتی نازک امیدوں کے کفن
پھر داؤ پر لگنے سے ڈرتی عزتیں
یا قرض کی سُولی پہ مرتی عزتیں
بیتے ہوئے دن کا عذابِ زندگی
ہر روز رہ جاتا ادھورا ایک بابِ زندگی
چائے کے ان گندے کپوں میں چھوڑ کر
ہر شخص جب گھر جائے گا
تو چڑچڑاتی چارپائیوں پر پڑے
میلے کچیلے بستروں پر
بھوکے جسموں پر گراں کچھ بوجھ کو
بدبو کے بھبکوں میں گرا کر
اک نئی شب کے لیے
پھر بدنصیبی کے تعفن کی رداء
اوڑھے گا اور مر جائے گا !
سالکؔ صدیقی
جملہ حقوق محفوظ ہیں
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔