ہم سُخن، ہم
خیال بہتیرے، ہم سفر کی تلاش جاری ہے
منزلوں سے تو
میں شناسا ہوں، رہگذر کی تلاش جاری ہے
وجہِ آوارگی
کہوں کس سے، کس کو سمجھاؤں رازِ بے چینی
جو مرے رتجگوں
کا حاصل ہو، اس سحر کی تلاش جاری ہے
اب تو جائے
سکون دے یا رب، عمر کی سہ پہر میں دربدری
شہر سارا مری
ہتھیلی پر، اپنے گھر کی تلاش جاری ہے
جس کو ہر بار
ڈھونڈنا نہ پڑے، جو نہ محتاج آفتاب کا ہو
بس طلوع و
غروب ہو مجھ میں، اس قمر کی تلاش جاری ہے
میں نہیں ہوں
مریضِ دل یارو، گو مرض تو قدیم ہے شائید
چارہ گر آزما
لیے میں نے، فتنہ گر کی تلاش جاری ہے
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔