مری لکھنے کی خواہش کو
حقیقت کی سنہری روشنائی سے
ہمیشہ کے لیے
لفظوں کے زندہ پیرہن پر ثبت کرنے کو
قلم بے تاب رہتا ہے
کبھی اپنی کتابِ زندگی بھی، لائبریری میں
کسی کے خوبصورت
ہاتھ تھامی دیکھنے کا منتظر
اک خواب رہتا ہے
مگر اک المیہ بھی ہے
کہ مجھ سے، سوچ کر مرضی سے کچھ لکھا نہیں جاتا
تخیئل کی پنیری سے
کسی تحریر کی حدِ نظر تک
لہلہلاتی فصل پکنے تک
مزاج و کیفیت کے
ان گِنَت موسم بدلتے ہیں
لہلہلاتی فصل پکنے تک
مزاج و کیفیت کے
ان گِنَت موسم بدلتے ہیں
مرے وجدان کی پہنائیوں میں
اضطرابی سوچ کے دریا ابلتے ہیں
میں پھر بھی لکھ نہیں پاتا
مجھے کیاپھر کسی مکتب
میں سالکؔ
ارتقائے آگہی کا جبر سہنا ہے
ارتقائے آگہی کا جبر سہنا ہے
وگرنہ ذوقِ آوارہ کو
بے منزل ہی رہنا ہے؟
سالکؔ صدیقی
لائبریری میں بیٹھے ہوئے لکھی گئی
جملہ حقوق محفوظ ہیں
2 comments:
تلاشِ ذات میں صاحب یہ واقعہ بھی ہُوا
میں اپنی ذات سے اُلجھا بھی اورجُدا بھی ہُوا
کہیں ہُوا ہے وہ ظاہر، کہیں چُھپا بھی ہُوا
وہ بھید ہے تو، مگر ہم پہ ہے کُھلا بھی ہُوا
مِری ہی ذات، مجھے چار سُو دِکھائی دی
میں جُستجُو میں تِری ایک آئینہ بھی ہُوا
خودی کی ڈھونڈ میں مجھ کو وہ مرحَلے بھی دِکھے
کہ بار ہا مِرا ، تجھ سے ہے سامنا بھی ہُوا
کبھی ہُوا ہُوں میں شیطاں، کبھی ہُوا میں ملک
کبھی، جو ذات میں کھویا، تو اِک خُدا بھی ہُوا
جِسے ہُوا ہے مُیسر، یہ شوق اوریہ جُنوں
وہی تو، ذات سے تیری ہے آشنا بھی ہُوا
تِری تلاش میں تیری ہی جُستجُو میں حبیب
مجھ ناچیز کہ کہی ہوئی اَک غزل اُمید آپ کو پسند آئے گی۔
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔