تنہا تھا
تو اپنے ہونے کا
احساس
مسلسل تھا
پھر شادی، بیوی،
بچوں نے
بٹوارہ کر کے
مجھ کو مجھ سے
چھین لیا
اب جیون کی شطرنج
پہ
شاہ، نہ پیادہ
ہوں
اک چال ہوں میں
جو صرف ادھار پہ
بکتا ہے
وہ مال ہوں میں
گو ظاہر میں زردار
نہیں
اندر سے مگرخوشحال
ہوں میں
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔