Pages

Sunday, January 27, 2013

کاش اس بار ۔ ۔ ۔



اب تو یہ سردیاں بھی جاتی ہیں

بستروں سے گریز کی عادت

کاش! اس بار ہی بدل سکتے

اور بے خواب و بے سکوں نیندیں

رتجگے، خامشی و تنہائی

نصف شب دھند اور اندھیرے میں

چہل قدمی و خود کلامی، سب

بس یہیں چھوڑ چھاڑ کر سالک

ایک ہم ذوق و ہم سفر، ہمدم

ساتھ لے کر کہیں نکل سکتے

خوش خیالی کی وادیوں میں کہیں

اپنی مرضی سے ہم بھی چل سکتے



سالک صدیقی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔