Pages

Tuesday, February 5, 2013

تم بھی اک سمت ہو

جانے کس کھوج میں

ایک بارِ تجسس سنبھالے ہوئے

بے نشاں سنگ میلوں پہ ٹھہرے بنا

سوچ کے کتنے بے سمت صحراؤں کو

خوش گمانی کے بے آ ب دریاؤں کو

اپنی دھُن میں مگن پار کرتا رہا

اور ادھر کاروانِ زمانہ بھی چپ چاپ

مجھ میں سے ہو کر گذرتا رہا

تب یہ عُقدہ کھُلا

میں ہی خود سمت ہوں

تم بھی اک سمت ہو

وسعتوں اور حدوں سے کہیں ماوراء

 دشتِ بے انت ہو

اپنے ہی کھوج میں

ایک بارِ تجسس اٹھائے ہوئے

روح کی وادیوں کا سفر تو کرو

خاکِ بے قدر کی مثل

حالات کی آندھیوں میں  نہ آوارہ اُڑتے پھرو!

سالکؔ صدیقی


جملہ حقوق محفوظ ہیں

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔