نیند آنکھوں میں
ٹھہرتی ہی نہیں
اور ہر روز کی
طرح یہ شب
جیسے نشے میں دھت
شرابی ہو
لڑکھڑاتا ہوا چلا
جائے
نہ کوئی سمت
نہ کوئی منزل
رکنا چاہے تو نہ
رکا جائے
تشنہ تعبیروں کی
دعاؤں سے
خواب سے اپنی آشنائی
نہیں
دردِ بے نام سے
رہائی نہیں
جسم و جاں پر اذیتوں
کا نزول
لمحہ لمحہ گراں
گذرتا ہے
زہر اک بے وفا
کی یادوں کا
رگ و پے میں نفوذ
کرتا ہے
ریت کے ڈھیر سا
وجود کوئی
دھیرے دھیرے بکھرتا
جاتا ہے
نیند، شب اور خواب
کے اُس پار
کیا کسی اور کو
بھی میری طرح
وقت یوں بے سبب
جگاتا ہے؟
سالک صدیقی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔