Pages

Monday, January 28, 2013

رتجگوں کا عذاب

نیند آنکھوں میں ٹھہرتی ہی نہیں
اور ہر روز کی طرح یہ شب
جیسے نشے میں دھت شرابی ہو
لڑکھڑاتا ہوا چلا جائے
نہ کوئی سمت
نہ کوئی منزل
رکنا چاہے تو نہ رکا جائے
تشنہ تعبیروں کی دعاؤں سے
خواب سے اپنی آشنائی نہیں
دردِ بے نام سے رہائی نہیں
جسم و جاں پر اذیتوں کا نزول
لمحہ لمحہ گراں گذرتا ہے
زہر اک بے وفا کی یادوں کا
رگ و پے میں نفوذ کرتا ہے
ریت کے ڈھیر سا وجود کوئی
دھیرے دھیرے بکھرتا جاتا ہے
نیند، شب اور خواب کے اُس پار
کیا کسی اور کو بھی میری طرح
وقت یوں بے سبب جگاتا ہے؟

سالک صدیقی

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔